بنگلورو13؍اگست(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) معروف کنڑا ادیب چندر شیکھر پاٹل چمپا نے کہا کہ ملک میں ہندو قومیت کے نام پر دہشت گردی کو بڑھاوا دیا جارہا ہے۔اس دہشت گردی سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ ہندو مذہب کی حفاظت کی آڑ میں کچھ عناصر سماج کے دیگر طبقات کو خوفزدہ کرکے اپنا سیاسی الو سیدھا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ان عناصر سے سماج کوواقف کرانے کی اشد ضرورت ہے۔ آج شہر میں قومیت ، تہذیب اور سیاست کے عنوان پر منعقدہ مذاکرہ میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہندو بنیاد پرستی کے پیچھے کچھ درپردہ طاقتیں کار فرما ہیں، ان طاقتوں کا مقصد ملک میں بدامنی اور سیاسی عدم استحکام پھیلانا ہے۔ وندے ماترم کو لازمی قرار دئے جانے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کچھ لوگوں نے اسے اپنے مفاد کیلئے یرغمال بنارکھا ہے۔ آج یہی لوگ گؤ رکشا کے نام پر اقلیتوں اور دلتوں کو ہراساں کرنے نکل پڑے ہیں۔ معروف مفکر پروفیسر رام پنیانی نے اس موقع پر مخاطب ہوکر کہاکہ بھارت ماتا، گؤ ماتا وغیرہ کے نعرے محض سیاسی دکان چمکانے کیلئے لگائے جارہے ہیں۔ رام مندر کے نام پر سیاسی دکان چمکاکر ان لوگوں نے پہلے اقتدار حاصل کیا ، اور اب بھارت ماتا اور گؤ ماتا کے نام پر اپنی سیاسی دکان کو اور چمکانے کی کوشش کررہے ہیں۔بدقسمتی اس بات کی ہے کہ فرقہ پرست پس منظر کے حامل عناصر کو ملک کا اقتدار مل چکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے مٹھی بھر لوگ ہی رام مندر کی وکالت کرتے ہیں ، ان کی سہولت کیلئے ملک میں بدامنی کیوں پھیلائی جاتی ہے؟آج ملک کے غریب کو روٹی کپڑا اور مکان کے ساتھ صحت اور تعلیم کی بھی اشد ضرورت ہے۔ملک کے بہت سارے علاقے آج ایسے موجود ہیں جہاں پینے کا پانی بھی میسر نہیں ہے۔ ان علاقوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ ایسا کرنے کی بجائے اونچی اور نیچی ذات کے درمیان دراڑیں پیدا کرکے یہ لوگ درپردہ طاقتوں کے منصوبوں کو کامیاب بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بھارت ماتا اور گؤ ماتا کے نام پر ملک کو توڑنے کی سازش کے پیچھے برہمنوں کا ہاتھ ہے۔ ان لوگوں کو ناکام بنانا سماج کیلئے فکر مندہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ ملک میں جو صوفی سنت تہذیب صدیوں سے چلی آرہی ہے اس کے بارے میں عوام میں بیداری لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بیف کے استعمال کی بنیاد پر اقلیتوں کو نشانہ بنائے جانے اور ان پر حملے کئے جانے کی مذمت کی اور کہاکہ اکثریتی طبقے نے بھی اب اپنا طرز زندگی تبدیل کرلیا ہے، یہ طبقہ بھی آج گوشت خور ہوچکا ہے، تو پھر گؤ ماتا کے رکشک اکثریتی طبقے کو کیوں نشانہ نہیں بناتے؟۔